سپرمائیکرواسکوپی اورورچول ریئلٹی سافٹ ویئر کی بدولت اب خلیات اور پروٹین کے اندر جھانکنا ممکن ہوچکا ہے۔  فوٹو: کیمبرج یونیورسٹی

سپرمائیکرواسکوپی اورورچول ریئلٹی سافٹ ویئر کی بدولت اب خلیات اور پروٹین کے اندر جھانکنا ممکن ہوچکا ہے۔ فوٹو: کیمبرج یونیورسٹی

کیمبرج: اب سائنسدانوں نے خلیات کو اتنا وسیع نہیں کیا کہ اس میں چہل قدمی موجودات ہیں اور پروٹین کے اندر نظریہ کیا جاوا دستاویزات ہیں۔

یہ پورا نظام کیمبرج یونیورسٹی اور ایک نجی کمپنی مل مل کر بنا رہی ہے۔ سافٹ ویئر کو وی لیوم کا نام لیا گیا ہے۔ تھری ڈی امیج پروسیسنگ کا پورا نظام لیوم وی آر کمپنی تیار کیا ہوا ہے۔ یہ دلچسپ نظام خردبین دیکھے ہوئے مقامات پر ہے اور اجزا کوٹاٹا اور حاصل ورچول ریئیلٹٰی میں لے جانا ہے۔ جہاں کوئی بھی انفرادی پروٹین نہیں ہے مختلف خلیات کے اندر بھی اس کی تفصیل معلوم ہوتی ہے اس طرح حیاتیات کے بنیادی رازوں کو فاش کرنا ممکن ہے اور بیماریوں کے علاج کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

اس کے بعد ورچول یونیورسٹی کا نظام یا آپ کے ہر فرد کے خلفے کا نظریہ رہنا ہے۔ اس سسٹم میں سب سے اہم ‘سپر ریسولوشن مائیکروواسکوپی’ ہے 2014 میں کیمیا کا نوبل انعام ملنے والا ہے۔ اس کی بدولت نینوپیمانے پر تصاویر لی جاسکتی ہیں۔ اس کی بدولت سائنسداں سالماتی عمل کو سمجھنا ممکن ہے۔ لیکن اس طرح کی صورتحال (وزولائزیشن) کی ضرورت کے مطابق ہورہی تھیم ہے۔

یہ سسٹم خلیات کو تھری ڈی (سہ جہتی) انداز میں ظاہر ہوتا ہے اور صرف مجازی طور پر خلیات کے اندر جاپانیہنچتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی میں سپر ریسولوشن مائیکروواسکوپی ، ڈیٹا تجزیہ کاری اور کمپیوٹرنگ کوہ باہم ملایا گیا ہے۔ اب یہ سمجھنے والی بات ہے کہ انسان کو کوئن پیمانے تک چھوٹا کردیتی ہے یا پھر خلیات کو انسانوں کا سب سے بڑا وجود ظاہر ہوگا۔

حیاقیقی وقت میں مجازی خلعت کا نظریہ حیاتیات ایک نئی دنیا سے روشناس کراسکتا ہے۔ اسطرح مزید دریافتوں کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تحقیق میں ایک پی ڈی ڈی طالبہ انوشکا ہنڈا کے خون سے نمونے نہیں لے رہی ہیں لیکن امینیاتیاتی خلیات اور مائیکروواسکوپی سے ان کا تعلق ہے۔ اس کے بعد وہ خود ہی امنیاتی خلیات میں داخل ہوکر اس کا نظارہ ہوگا۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here