اشتہاری اور زحل سے 800 سال پہلے پہلے قریب آ رہے ہیں۔  (فوٹو: انٹرنیٹ)

اشتہاری اور زحل سے 800 سال پہلے پہلے قریب آ رہے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کراچی: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آسمان پر اشتہاری اور زحل میں فاصلے کم ہورہیے ہیں اور قربتیں بڑھتی ہوئی 16 دسمبر سے 25 دسمبر تک کسی نظر نہیں آسکیں گی جہاں وہ 800 سالہ سال پہلے کی بات ہے۔ یعنی یہ واقعہ فلکیات کے نایاب ترین واقعات میں سے ایک ہے۔

اس کے علاوہ یہ منظر ان ملکوں اور زیادہ سے زیادہ واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے جو خطِ استوا (دیکھنے والا) زیادہ قریب ہے۔ پاکستان بھی ان ممالک میں سے ایک ہے۔

سورج غروب قریب قریب ایک گھنٹے بعد مشتری اور زحل کو مغربی افق کے آس پاس پاس جاک اور اس قدرتی نظارے سے لطف اٹھانا جاکیا ہے۔

اگر آپ فلکیات اور خاص طور پر فلکیاتی عکاسی (ایسٹرو فوٹوگرافی) کے بارے میں بات کرتے ہیں تو آپ خبریں ڈالتے ہیں۔ 16 سے 25 دسمبر تک آپ کے دوربینوں اور تیاریاں رکھی گئی ہیں کیونکہ مارچ 2080 تک زحل اور مشتری ایک دوسرے سے قریب نظر نہیں آئیں گے ؛ اور اس کے بعد دوسرا منظر 2400 میں اس کی نظر آتی ہے!

ماہرین کے مطابق ، 16 سے 25 دسمبر تک آسمان میں مشتری اور زحل کا ظاہری فاصلہ چاندی چوڑائی (قطر یعنی ڈائیومیٹر) صرف پانچ حصے (20 فیصد) کے لگ بھگ رہے ہیں۔

21 دسمبر کو دونوں فاصلوں پر ایک دن فاصلے ہوں گے 25 دسمبر کے بعد ایک بار پھر دوسرا دور گزرے گا۔

بت پرستوں کا مشاہدہ اور زحل کے قریب واقعہ دیکھنے کی جگہ ہی نظر آرہی ہے ورنہ درحقیقت یہ دونوں سیارے لگے بند مداروں (مداروں) میں رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ ، مدار میں گردش کے دوران مختلف سیاروں کا درمیانی فاصلہ کم سے کم ہونا ضروری ہے جو ایک ارب ارب سالوں سے جاری ہے۔

تقریباً ہر 20 سال میں ایک موقع ملتا ہے جب نظامِ شمسی باقی سیارے کی زمین کی سیدھ میں آج کی عبادت میں ہوتا ہے اور ایک سیدھی لکیر کی طرح کا اعتماد ہوتا ہے۔

اس سال میں بھی کچھ چیزیں نہیں رکھی گئیں ہیں جو کسی قسم کا ہے یا کوئی فرق نہیں پڑتا۔

آن لائن موقعوں پر فلکیات کے خوبصورت اس نظریے کو دیکھیں ” اسٹیلیریئم ” نامی ویب سائٹ پر رجسٹر ہوسکے ہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here