ایران نہیں آذر بائیجان اور آرمینیا سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں فوج تعینات کرد ہے (ٹوفوٹو ، فائل)

ایران نہیں آذر بائیجان اور آرمینیا سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں فوج تعینات کرد ہے (ٹوفوٹو ، فائل)

تہران / باکو: ایران نے آذر بائیجان اور آرمینیا سے مت متثل کی اپنی سرحدوں پر فوج تعینات کردی جب دوسری نگرانی قرہ باخ کے تنازعے پر دونوں ممالک کے مابین جھڑپوں کا نیا سلسلہ شروع ہوا۔

ایرانی خبر رساں کے مطابق ، ایران کے انقلابی گارڈز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل محمد پاکپور نے ایک بیان میں بتایا کہ آرمینیہ اور آذر بائجان سے متصل ایران کی سرحدی تاریخ میں فوجی یونٹس تعیناتی کر رہے ہیں۔ اس علاقوں میں تعطیل کی فوج کو خطرہ ہے اور وہ سلامتی اور ملکی سلامتی کے لئے خطرہ ہے۔

پاکپور نے کہا کہ ایران میں سالانہ تعلیم کا احترام کیا جا رہا ہے ، لیکن جغرافیائی سیاست میں ایران میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آسکتی ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی آذر بائیجان اور آرمینیا سے متصل ایران کا سرحدی موقعہ گولڈ آکر گرائن واقعات کے سامنے آنے کے بعد ایرانی صدر نے بتایا تھا کہ دونوں ممالک کے جھڑپوں سے علاقائی تنازعات میں تبدیلی کا اندراج ہوتا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں: آذر بائیجان اور آرمینیا کی لڑائی علاقائی جنگ میں تبدیل ہوسکتی ہے ، ایران

دوسری مرتبہ نگورنو قرہ باکھ کے علاقوں میں ایک مرتبہ پھر آرمینیا اور آذر بائجان کے مابین جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ فرینچین ایک دوسرے پر امن معاہدے کے خلاف ہے۔

درس اثنا آذر بائیجان نے آرمینیا کی فوج سے انخلا کی صورت میں جنگ بندی کے بارے میں بتایا کہ آمادگی ظاہر ہوا ہے۔ خود ایک انٹرویو میں آذربائیجان کے صدر نے اس کے بارے میں یقین دلایا کہ اس کے اثر کو یقینی بنانے میں ناکام رہ گیا ہے۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here