اس پرندے کے جسمانی حصہ کا حصہ نر مادے کی خصوصیات کا حامل ہے۔  (فوٹو: میڈیا میڈیا)

اس پرندے کے جسمانی حصہ کا حصہ نر مادے کی خصوصیات کا حامل ہے۔ (فوٹو: میڈیا میڈیا)

پنسلوانیا: امریکی سائنسدانوں نے ایک بار جنگ کی پردہ دریافت کیا ہے جو ایک طرف سے ‘آدھا نر’ اور دوسری طرف ‘آدھی مادہ’ ہے۔ اس کی وجہ سے جینیاتی (جینیٹک) ہوسکتی ہے۔

واضح طور پر نرس اور مادہ پروڈکشن کا اعزاز ایک ساتھ بچ رکھنےوں کے جانوروں کا کوٹ ” ہرمافروڈائٹ ” نے بتایا۔ اس کے برائکس جانوروں کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور دوسری طرف آدھی ماد ہوتےہ ہوتے ہیں ، انیالے ” گائنڈرومورف ” (گائنڈرومورف) کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ یعنی یہ مکمل نرس نہیں ہے اور وہ مکمل نہیں ہے۔

امریکی ریاست پنسلوانیا میں جنگلی جانور اور پرندوں کی قدرتی آب و ہوا کے گاہک کے درجہ حرارت پر رحم کرنے والوں کا ایک علاقہ ‘پاؤڈرمل نیچر ریزرو’ میں ہے۔ روزانہ دریافت کیا۔

” روزبریسٹڈ گراسبیک ” (گلاب کی چھاتی والا گرسوبیک) اس کا علاج جس طرح نرسوں کے سینے پر ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ گلابی رنگ کا ایک بڑا اور نمایاں دھبہ بھی اس کے اندر کا حصہ ہے۔ ہے۔

روزبریسٹڈ گراسبیک کی ماد ہوتیہ اس سے مختلف ہوتی ہے: اس کا سینہ بھوری رنگت کا اس کے اندرونی حص شوہ شوخ زرد ہے۔

پنسلوانیا میں مذکورہ مقام سے ملنے والے پرندے کو دلاسے دے رہے ہیں نصف حصے پر سرخ دھبہ بھی اس کے اندر ہی شوک گلابی رنگت کا ہے ، جس کا نام نسبتا ہوتا ہے۔

اس کے برِکس ، سینے کے بائیں حصے کی طرح بھورا بھی ہے اور اس کے اندر بھی زرد رنگ ہے۔

یہ مکمل طور پر نامعلوم نہیں ہے۔ پاؤڈرمل نیچر ریزرو میں پرندوں کے تحقیقی مرکز سے وابستہ ماہرین کوٹ 64 سال میں یہاں دس دن پرندے کے مل چکےی ہیں جو بیک وقت آدھے ہیں اور آدھی ماد ہیں ہیں۔

عموماً جینیاتی خرابی کے واقعات میں واقع ہوتا ہے ، لیکن اس کی شرح بہت کم ہوتی ہے۔ مثلاً دس ہزار مرغ کی دکانوں میں سے کسی ایک مرغی ہوسکتی جو آدھی نر اور آدھی مادہ ہو۔

روزبریسٹڈ گراسبیک میں نسل خیزی کا وقت مارچ کے مہینے میں تھا ، بہار کی آمد آمد کے ساتھ ہی شروع ہوتی ہے۔ تب تک ماہرین کو یہ انتظار ہے کہ آدھا نر اور آدھی مادہ ” اگلی نسل آگے بڑھنے کے قابل ہے یا نہیں۔



Source link

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here